6 جولائی 2012 - 19:30

امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن کے دورۂ افغانستان کے موقع پر افغانستان میں امریکی رسوائي کا ایک اور واقعہ سامنے آیا ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ امریکی حکام کے دعووں کے برخلاف نہ صرف افغانستان اور افغان عوام امریکہ کے نزدیک کوئي اہمیت نہیں رکھتے بلکہ امریکی فوجی تفریح کے لئے افعان عوام کا قتل عام کرتے ہیں اور امریکہ کے سیاسی اور فوجی حکام بھی اپنے طویل مدت ناپاک مقاصد کے لئے افغانستان کو ایک فوجی اڈے میں تبدیل کرنے کے درپے ہیں۔

ابنا: امریکہ کی رسوائی کا تازہ ترین واقعہ ایک ویڈیو فلم کا منظر عام پر آنا ہے جس میں ایک امریکی پائلٹ افغانستان کے ایک علاقے میں میزائل داغنے کے دوران گانا گاتے ہوئے دکھائی دیتا ہے۔اس ویڈیو میں پائلٹ بڑی خوشی کے عالم میں افغان عوام کے قتل عام کا اقدام دیتا ہے۔اس ویڈیو میں متحرک تحریر میں لکھا ہے کہ جب صوبہ وردک کے بے گناہ عوام سڑک پر جار ہے تھے تو ایک آپاچی ہیلی کاپٹر ان کے نزدیک آیا اور ان پر ایک میزائل داغ دیا اور عین میزائلی حملے کے دوران ہیلی کاپٹر کا پائلٹ گانا گا رہا تھا۔ہیلی کاپٹر کے پائلٹوں کی بات چیت سے پتہ چلتا ہے کہ انہوں نے تفریح کے لئے افغان عوام کا قتل عام کیا۔

افغان عوام کے خلاف امریکی فوجیوں کا یہ کوئي پہلا واقعہ نہیں ہے کہ وہ تفریح کے لئے افغان عوام کا قتل عام کرتے ہیں۔اس سلسلے میں مختلف رپورٹیں سامنے آ چکی ہیں جن میں ایک رپورٹ یہ بھی شامل ہے کہ امریکی فوجی افغان عوام کو قتل کرکے ان کی لاشوں پر پیشاب تک کرتے ہیں۔ایک اور رپورٹ کے مطابق امریکی فوجی افغان عوام کے قتل کے لئے آپس میں مقابلہ کرتے ہیں اور ان کی لاشوں کی انگلیاں کاٹ کر ایک دوسرے پر پر سبقت لے جانے کی کوشش کرتے ہیں۔

ایک امریکی جریدے " رولنگ اسٹون " Rolling Stoneنے اپنی حالیہ رپورٹ میں لکھا ہے کہ امریکی فوجیوں کے ایک گروپ نے جس پر افعان عوام کو بے رحمانہ قتل کرنے کا الزام ہے ، جیسا کہ پینٹاگون نے دعوا کیا ہے ، خفیہ طور پر عمل نہیں کیا بلکہ اپنے فوجی یونٹ کے اہلکاروں کی آنکھوں کے سامنے جرم کا ارتکاب کیا ہے۔یہ امریکی فوجی حکام کے دعوے کے برخلاف ہے جو یہ دعوی کرتے ہیں کہ ان فوجیوں نے اپنے افسروں کی اطلاع کے بغیر عمل کیا ہے۔اس رپورٹ کے ساتھ دو تصاویر بھی ہیں جو اس سے پہلے جرمن جریدے " اشپیگل " نے بھی شائع کی تھیں۔دونوں تصاویر امریکی فوجیوں نے قتل کئے گئے افغانیوں کی خون آلود لاشوں کے پاس کھڑے ہوکرالگ الگ کھنچوائي ہیں۔

موصولہ رپورٹوں کے مطابق برطانوی فوجی بھی تفریح کے لئے افغان عوام کے گھروں پر دستی بم پھینکتے تھے۔علاوہ ازیں قرآن مجید کو نذر آتش کرنا اور افغانستان کے مسلمان عوام کے مقدسات کی توہین کرنا بھی افغانستان میں امریکی فوجیوں کے جرائم میں شامل ہے جن کا انکشاف آزاد خبری ذرائع نے کیا ہے جبکہ امریکی فوجیوں کے بہت سے جرائم مغرب کی سینسر شپ کی وجہ سے سامنے نہیں آتے ہیں۔

دریں اثنا افغان صدر حامد کرزئي نے مغربی حلقوں پر سنہ دو ہزار چودہ کے بعد افغانستان کے حالات بدتر ہونے پر مبنی غلط تجزئيے پیش کرنے کا الزام لگایا ہے کہ جو نفسیاتی جنگ چھیڑ کر افغانستان پر قبضے کو جاری رکھنے کی کوشش میں ہیں۔حامد کرزئي نے جمعہ کے روز مغربی ممالک پر الزام لگایا کہ وہ افغانستان میں اپنی موجودگي کو جاری رکھنے کے لئے اس طرح کی تشویش کا اظہار کر ر ہے ہیں۔

بہرحال ، افغانستان کے بارے میں امریکہ کے سیاسی اور فوجی حلقوں کا زاویہ نگاہ امریکی وزیر خارجہ کے دعوے کے منافی ہے جنہوں نے افغانستان کو امریکہ کا غیر نیٹو اتحادی ملک قراردیا ہے۔سنہ دوہزار ایک میں افغانستان پر حملہ کے وقت امریکہ نے پاکستان کو ، جس کی امریکہ کو لاجسٹک مدد کے لئے ضرورت تھی ، اپنا غیر نیٹو اتحادی قراردیا تھا لیکن اب پاکستان کی آزادی و اقتدار اعلی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ہر روز ڈرون حملے کرکے پاکستانی عوام کا قتل عام کررہا ہے۔..... /169